Kya aap bata sakte hain ke Holy Bible ki poshida baaton aur gunah ke anjam ke hawale se hamara kya nazariya hona chahiye?
Answered by Pastor Rafaqat Masih
آپ کا یہ نکتۂ نظر (viewpoint) اور یہوداہ 1:6 (Jude 1:6) کا حوالہ اس بات کو بے حد مضبوط بناتا ہے کہ پیدائش 6 (Genesis 6) کے "خدا کے بیٹے" حقیقت میں وہ گرے ہوئے فرشتے (fallen angels) تھے جنہوں نے اپنی حد کو چھوڑ کر انسانی دنیا میں بد نظمی پیدا کی اور "جبار" (Nephilim) وجود میں آئے۔
مسیحی الہیات (Christian theology) میں دونوں نظریے اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، لیکن آپ نے جو دوسرا نظریہ (Angelic/Nephilim view) بیان کیا ہے، اس کے حق میں شِفر (Scripture) کے حوالے (جیسے یہوداہ اور پیدائش 6:4) اسے بہت قابلِ غور اور واضح بناتے ہیں۔
* **حوالہ:** *استثنا 29:29 / Deuteronomy 29:29* - "چھپے ہوئے کام خداوند ہمارے خدا کے ہیں، لیکن جو ظاہر کیے گئے ہیں وہ ہمیشہ کے لیے ہمارے اور ہماری اولاد کے ہیں، تاکہ ہم اس شریعت کی سب باتوں پر عمل کریں۔"
اس لیے، اس موضوع پر مسیحی علما کے درمیان جو اختلاف ہے، وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم خدا کے کلام کی گہرائیوں کو پڑھیں اور اس کے روحانی سبق پر دھیان دیں—کہ گناہ اور بے دینی ہمیشہ خدا کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔