پاکستان کے قانون کے تحت وزیراعظم کا مذاق اڑانے اور کسی شخص کے فون کو اس کی اجازت کے بغیر چھونے کی کیا آئینی یا قانونی حیثیت ہے؟
Answered by Barrister Tashfeen Khalid
پاکستان کے آئین میں براہ راست ایسے قوانین موجود نہیں ہیں جو وزیراعظم کا مذاق اڑانے یا کسی دوسرے شخص کے فون کو اس کی اجازت کے بغیر چھونے پر جرمانے یا قید کی سزا کا تعین کرتے ہوں۔ تاہم، ان معاملات کو دیگر قوانین کے تحت دیکھا جا سکتا ہے جو آزادی اظہار، سائبر کرائم، یا نجی ملکیت کی خلاف ورزی سے متعلق ہیں۔
**4. وزیراعظم کا مذاق اڑانا (Making fun of the Prime Minister):**
* **آئینی یا قانونی حیثیت:** پاکستان کے آئین میں براہ راست کوئی ایسی دفعہ نہیں ہے جو وزیراعظم کا مذاق اڑانے کو جرم قرار دیتی ہو۔ تاہم، الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا ایکٹ (Prevention of Electronic Crimes Act - PECA) 2016 کی دفعات، خاص طور پر دفعہ 20 (عزت ہتک) یا دفعہ 21 (سائبر ہراسانی)، کا غلط استعمال حکومتی شخصیات پر تنقید یا ان کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔ اس قانون کے تحت "کسی شخص کی ساکھ کو نقصان پہنچانے" یا "جھوٹی معلومات پھیلانے" پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ یہ براہ راست "مذاق اڑانے" کے بارے میں نہیں ہے، لیکن اس کی تشریح اس طرح کی جا سکتی ہے کہ حکومتی شخصیات کی تضحیک کو اس کے دائرہ کار میں لایا جائے۔
* **حوالہ:** الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا ایکٹ (PECA) 2016، دفعہ 20 اور 21۔ (یہ قانون آئین کا حصہ نہیں بلکہ آئین کے تحت بنایا گیا ایک عام قانون ہے)۔
**5. دوسرے شخص کے فون کو اس کی اجازت کے بغیر چھونا (Touching someone's phone without permission):**
* **آئینی یا قانونی حیثیت:** پاکستان کے آئین میں براہ راست کوئی ایسی دفعہ نہیں ہے جو کسی دوسرے شخص کے فون کو اس کی اجازت کے بغیر چھونے کو جرم قرار دیتی ہو اور اس پر 6 ماہ قید کی سزا کا تعین کرتی ہو۔ تاہم، اس عمل کو پاکستان پینل کوڈ (Pakistan Penal Code) کی دفعات کے تحت دیکھا جا سکتا ہے جو نجی ملکیت کی خلاف ورزی، چوری، یا کسی کی پرائیویسی میں مداخلت سے متعلق ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر فون چھونے کا مقصد اس میں موجود ڈیٹا تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنا ہو تو یہ PECA 2016 کی دفعات کے تحت بھی آ سکتا ہے جو سائبر کرائم اور ڈیٹا کی خلاف ورزی سے متعلق ہیں۔
* **حوالہ:** پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات جو چوری (دفعہ 378)، مجرمانہ تجاوز (دفعہ 441)، یا PECA 2016 کی دفعات جو ڈیٹا کی غیر مجاز رسائی (دفعہ 3) سے متعلق ہیں۔ (یہ قوانین بھی آئین کا حصہ نہیں بلکہ آئین کے تحت بنائے گئے عام قوانین ہیں)۔
یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ دونوں نکات آئین کے براہ راست حصے نہیں ہیں بلکہ آئین کے تحت بنائے گئے عام قوانین کے دائرہ کار میں آ سکتے ہیں، اور ان کی تشریح اور اطلاق حالات پر منحصر ہوتا ہے۔